molana akram awan

رزق کے اثرات (تحریر … مولانا محمد اکرم اعوان)

رزق کے اثرات

تحریر … مولانا محمد اکرم اعوان:
اللہ کریم قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ ”جو کچھ زمین میں کھاؤ،تمہارے لیے ہے“ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ ”زمین میں جو کچھ پیدا کیا،سب تمہارے لیے ہے“ لیکن دوباتیں یاد رکھو!”ایک تو وہ چیزفی نفسہ حلال ہو،دوسرا اس چیز کو حاصل کرنے کا طریقہ بھی حلال ہو“
اگر چیز ہی حرام ہے تو اسے آپ حلال طریقے سے کیسے حاصل کریں گے۔مردار جانور ہے یا حرام جانور ہے،آپ اسے جائز پیسوں سے بھی خریدیں گے تو وہ حلال نہیں ہو جائے گا۔فرمایا چیز بھی حلال ہو اور اس کے حصول کا طریقہ بھی حلال ہو۔ اس کے بعد اسے طیب طریقہ سے،پاکیزگی سے کھائیں۔اس میں کوئی ناپاکی شامل نہ کردیں۔کوئی پلیدی شامل نہ کردیں،ناپاک طریقہ نہ اختیار کریں۔ایک باورچی پکاتا ہے لیکن اس پہ غسل واجب ہے، اس نے غسل ہی نہیں کیا تو پاکیزگی کہاں سے آئے گی؟ہاتھ منہ دھو کر کھانا پکانے لگ گیا۔اس طرح وہ برتن دھونے میں غیر محتاط ہوتے ہیں،پاکی،پلیدگی کی پر واہ نہیں کرتے۔ چھوٹے سے گڑھے میں پانی کھڑا ہے جو ناپاک ہے لیکن خواتین اس میں کپڑا دھو کر پاک کرلیتی ہیں۔یہ کوئی کرامت ہے کہ وہ پانی خود ناپاک ہے، اس میں ہر طرح کا جانور داخل ہو رہا ہے اور تھوڑا سا پانی ہے لیکن اس میں کپڑا دھوکر اسے پاک کرلیتے ہیں۔کیسی عجیب بات ہے! اللہ کریم نے پوری زندگی کے لیے یہ نسخہ بتا دیا ہے کہ رزق حلال کھاؤ۔
طیب رزق کے تذکرے میں حضر ت مولانا اللہ یار خان رحمۃ اللہ علیہ لنگر مخدوم کے ایک سفر کا ذکر فرما تے ہیں۔اس دور میں ذرائع و آمدروفت کا یہ حال تھا کہ بڑی مشکل سے سواری ملتی تھی۔کہیں بس،کہیں ٹانگہ،کہیں پیدل، اسی طرح لنگر مخدوم پہنچتے تھے۔ایک مرتبہ لنگر مخدوم جاتے ہوئے راستے میں شام ہوگئی۔ گاؤں کے لوگوں نے کہا،آپ رات یہاں قیام کرلیں، ہم آپ کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔آپ ؒ نے کہا،کھانا تو میں کھاؤں گا لیکن میری ایک شرط ہے کہ نمازی عورت کے ہاتھ کا پکا ہوا ہو۔اب جو نماز ادا نہیں کرتی،اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا پاکیزہ کہاں ہوگا؟سارے گاؤں میں تلاش کرنے کے بعد انھوں نے معذرت کر لی کہ اس گاؤں میں تو کوئی عورت ایسی نہیں ہے جو نماز پڑھتی ہو۔حضرت مولانا اللہ یار خان ؒفرماتے تھے: میں نے کہا کہ پھر ایسا کرو کہ جو نمازی مرد گائے،بھینس کا دودھ نکالتے ہیں، ان کے ہاتھ سے نکالا ہوا مجھے تھو ڑا سا دودھ دے دو،اس پر گزارا کرلوں گا۔ تو کھانا فی نفسہ حلال ہو،اس کے حصول کا طریقہ حلال ہو، جائز ہو،اور پھر اسے پاکیزہ رکھ کر کھایا جائے،اس میں ناپاکی شامل نہ ہو تو یہ چیز شیطان کی پیروی سے بچانے کا بہترین نسخہ ہے۔ اگر کوئی شیطان کی پیروی میں پھنس گیا تو وہ اسے برائی کا حکم دے گا۔ برائی میں مبتلا ہوگیا تو پھر بے حیائی کا حکم دے گا اور جب بے حیائی میں مبتلا ہو گیا تو پھر اس کے منہ سے اللہ کی ذات کے بارے، نبی کریم ﷺ کے بارے، دین کے بارے ایسے کلمات نکلوائے گا جو جہالت ہوں گے،یعنی اسے کفر تک پہنچائے گا۔تو یہ دو باتیں ہیں کہ زمین کی ہر چیز استعمال کرو لیکن شرط یہ ہے کہ حلال ہو،فی نفسہ حلال اور اس کے حاصل کرنے کا طریقہ بھی حلال ہو۔ اس پہ شرط ہے کہ وہ طیب ہو، پاکیزہ ہو، پاک صاف ہو۔ اگر آپ یہ محنت کریں گے تو اللہ کریم شیطان کی پیروی سے بچنے کے لیے ہماری حفاظت فرمائے گا۔
انسان کو چاہیے کہ عقل و شعور سے کام لیتے ہوئے اسباب کو دیکھے تو مسبب الاسباب کی تلاش کرے اور تصویر سے اسے مصور کا خیال آئے۔تخلیق سے اس کی توجہ خالق کی طرف جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ نے جو رزق دیا ہے، اس میں سے طیب رزق استعمال کرے۔اللہ کریم نے ایسی چیزیں پیدا فرمائی ہیں کہ ایک کے کھانے سے بیمار کو صحت نصیب ہوجاتی ہے اور دوسرے کے کھانے سے صحت مند آدمی کو موت آجاتی ہے۔انسان کو ان کی خصوصیات سے بھی آگاہ فرمادیا تو اب انسان کو چاہیے کہ وہ زہر نہ کھائے۔اس کی بجائے وہ چیزیں کھائے جو اس کو صحت عطا کرتی ہیں۔حرام یا ناپاک رزق ایسے ہی ہے جیسے کوئی زہر کھاتا ہے۔ زہر ایک مادی چیز ہے اور اس سے مادّی جسم کو موت آتی ہے یا مادّی جسم پہ بیماری آتی ہے اور گناہ یا حرام ایک کیفی چیز ہے۔ وجود تو ایک ہی ہے، گوشت کا ایک ٹکڑا خریدتے ہیں تو حلال ہے، چوری کرتے ہیں تو وہی حرام ہو جاتا ہے۔ گوشت تو گوشت ہی رہتا ہے لیکن اس کے اندر جو کیفیت ہے وہ بدل جاتی ہے۔ آپ نے اسے خریدا ہے، حلال ہے، آپ کو روحانی صحت عطا کرے گا۔ آپ نے چوری کر لیا ہے تو وہ روح کی بیماریاں پیدا کرے گا، ایسی کیفیات ہوں گی جن سے آپ کی انسانیت کو خطرہ ہوگا۔ انسانیت مرگئی تو باقی محض جانور رہ گیا۔اسی لیے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ”جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے، اس میں جو چیزیں حلال بتا دی ہیں۔وہ کھاؤ اور اللہ کا شکر اداکرو کہ تم نہیں جانتے تھے۔“اس نے تمہیں بتادیا۔اس نے تم پر کتاب نازل فرمائی اس نے تمہیں محمد رسول اللہ ﷺ جیسی ہستی سے سرفراز فرمایا،ایک ایسی ہستی جس نے زندگی کے ہر چھوٹے کام سے لے کر ہر بڑے فیصلے تک تمہاری راہنمائی فرمادی، فرما رہے ہیں اور فرماتے رہیں گے۔ تا قیامت نبوت و امامت و قیادت محمد رسول اللہ ﷺ ہی کی ہے۔آج اگر ہم سجدہ کررہے ہیں تو سجدہ ریز ہونے کی ادا ہمیں حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات سے ملی۔آج اگر ہم اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر بیٹھے ہیں تو یہ حضوری کا شرف بطفیل نبی کریم ﷺ ہمیں حاصل ہے۔اسی طرح سے غذا میں، کاروبارمیں،کمانے میں اور اسے صرف کرنے میں پوری احتیاط کرو۔اگر یہ حلال ہوگا تو یقینا روح کو، روحانی کیفیات کو طاقت دے گا جو ہدایت کی طرف بڑھنے کی ایک صورت ہو گی،ہدایت کو قبول کرنے کی ایک صورت ہوگی۔خدانخواستہ اگر کوئی حرام کھائے گا تو اس کے اندرسے کیفیات مرتی جائیں گی۔پیٹ تو بھر جائے گا،وقت تو گزر جائے گالیکن وہ کیفیات ختم ہوتی جائیں گی،اور خطرہ یہ ہے کہ اگر اس پر قائم رہا تو بالآخر کفر تک جا پہنچے گا۔

Leave a Reply